خاموشی سے کمرے میں تنہائی میں خود کو ایک شال میں لپیٹے دیوار سے لگی بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔اس کی وہ گہری سنہری جھیل نما آنکھیں بھی قحط سالی کا شکار معلوم ہوتی تھیں۔۔۔۔۔ جونہی شانزے میں کمرے میں داخل ہوئی اس نے صرف آنکھوں کی حرکت سے اسکے چہرے کو دیکھا مگر ذرا نہ سرکی وہ اپنی جگہ سے۔۔۔۔۔"کیا ہوا ہے میری چہکتی  آنکھوں والی گڑیا کیوں یہ حال بنائے بیٹھی ہو؟ "شان نے نہایت پیار سے مخاطب ہو کے کہا۔۔۔۔۔۔۔ وہ کچھ بول ہی نہیں پائی صرف اسکے ضبط کے بے ربط ہونے کے نشانی وہ ایک آنسو کی لین تھی جو اسکے گندمی گال پر کھینچ گئی تھی۔۔۔۔۔۔شان حوریہ کے پاس گئ اور بولی

" چندہ مجھ سے بھی نہیں کہو گی۔۔۔۔ آخر کیا ہوا ہے؟ "

حوریہ اپنے ضبط کے سارے پنے جوڑ کر بولی" کچھ نہیں آپا الّلہ جی کا انتظار کر رہی ہوں کہ کب وہ میرے ہر سوال کا جواب دے کے میرے درد کا مداوا کریں گے۔۔۔۔۔آپا میرے وکیل ہیں میرے الّلہ جی ان کے سوا کوئی گواہ نہیں میرا ۔۔۔۔۔۔بس اب وہ جواب دیں گے ان سب کو۔۔۔۔۔" اتنا کہہ کے وہ سجدے میں گر کے رونے لگی اسکے آنسو اسکے حلق میں اٹک رہے تھے وہ بار بار کہہ رہی تھی" الّلہ جی آپ انکو بتاو نا کہ آپ میرے ہو ان سب کو لگے پتہ کہ آپ میرے دوست ہو یہ سب میرا تنہا سمجھ کے تماشا بناتے رہے میرے جزبات و احساسات  کا میری تگلیف کا۔ ۔۔۔۔میں نیں کر پا رہی معاف آپ الّلہ جی ہو نا میرے آپ کرنا چاہو تو کر سکتے انکو معاف پر الّلہ جی میرے سے نہیں ہوگا۔ ۔۔۔۔۔۔۔آپکی حوریہ تھک گئی ہے سب سنمبھال لونا۔۔۔۔۔!" اسکے آنسو اسکے رب سے باتیں کرنے لگے اور 

شان اپنی نم آنکھوں کے ساتھ سب خاموشی سے دیکھنے لگی۔ "